ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو: جنگ آزادی میں مسلمانوں کے رول پر کوئی بحث کیوں نہیں ہوتی : دنیش امین مٹو

منگلورو: جنگ آزادی میں مسلمانوں کے رول پر کوئی بحث کیوں نہیں ہوتی : دنیش امین مٹو

Sun, 14 May 2017 20:52:40    S.O. News Service

منگلورو:14/مئی (ایس اؤنیوز) ہندوستان کے جنگ آزادی میں مسلمانوں کے رول کو ملک تقسیم کی بنیاد پراور شک وشبہ اور بے اعتماد ی سے تجزیہ کیا جاتاہے جس کے نتیجے میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کا جو اہم کردار رہا وہ کبھی زیر بحث نہیں آنے کا وزیر اعلیٰ کے میڈیا صلاح کار دنیش امین مٹو نے خیال ظاہر کیا۔

بلمٹھ شانتی ہال میں ڈی وائی ایف آئی کی جانب سےمنعقدہ ’’مسلم یوتھ کانفرنس ‘‘میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کا رول کے موضوع پر خطاب کررہے تھے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سنئیر صحافی امین مٹو نے کہاکہ ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار مسلمانوں کے سر تھوپ کر انہیں مجرم کے مقام پر کھڑا کیا گیا جس کی وجہ سے جنگ آزادی میں مسلمانوں کے اہم کردار غائب ہوگئے ہیں، جب ہم جنگ آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہندو وں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت، بے اعتمادی ، شکوک و شبہات کو پیدا کرنے میں انگریزوں کی تاجرانہ ذہنیت کی بہت بڑی دین ہے۔ جنگ آزادی کی جدوجہد ایک طویل تاریخ پر مشتمل ہے۔اپنی 700سو سالہ دور حکومت کے دوران جب انگریزوں کی آمد ہوئی تو مسلمانوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے تشخص کے لئے سینہ تان کر انگریزوں کے خلاف کھڑے ہوں۔ ان سنگین حالات میں اپنا سب کچھ کھو کر جنگ آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے مسلمانوں کے متعلق کوئی بحث یا گفتگو نہ ہونا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔صرف غدر کے موقع پر 27،000مسلمانوں نے اپنی جانیں کھونے کا تذکرہ ملتاہے لیکن اس پر کوئی ڈبیٹ نہیں ہوتا۔ غالباً ملک کو آزادی عدم تشدد کی جدوجہد سے حاصل ہونے کی بات کہی جاتی ہے وہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔

دکشن کنڑا ضلع لیباریٹری کہاجاتاہے، جب ہم اس کی گہرائی میں اترتے ہیں تو اس کے پیچھےبھی تاجران کا ہونا واضح ہوتاہے۔ دکشن کنڑا میں ہندؤوں کی طرح مسلمان بھی زیادہ تر تجارت میں مشغول ہیں، فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کے دکان جل کر خاکستر ہوتے ہیں تو اس کا نفع کس کو ہوگا؟ ہر کوئی اس کو سمجھ سکتاہے ۔ اسی لئے فرقہ وارانہ فسادات کے لئے مذہب سے زیادہ تاجرانہ ذہنیت اہم وجہ ہونے کی سچائی کا ہم سب کو شعور ہونا چاہئے۔

ملک میں ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان عداوت و نفرت کے لئے زمینی تقسیم بھی ایک وجہ ہے۔جب گھروالوں کو باہر کے دشمن کا خطرہ ہوتو گھر میں کوئی جھگڑا نہیں کرتا، لیکن کوئی دشمن ہی نہ ہوتو گھرمیں جس طرح اختلافات پیدا ہوتے ہیں بالکل اسی طرح انگریزوں کے خلاف ہندو مسلم کا متحد ہونا فطری ہے۔ پاکستان، افغانستان ، بنگلہ دیش، ترکی ، ایران جیسے ہمارے پڑوسی مسلم ممالک ہیں، ان میں پاکستان کو دشمن ملک کی نظروں سے دیکھنے جانے کی وجہ سے پاس میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی دشمن سمجھا جارہاہے، لیکن دور بیٹھے چین اور امریکہ ہمارے اصلی دشمن ہونے کی سچائی پر کبھی بات نہیں کرتے ۔ ایسے دماغی خلل اور ذہنی تفریق جنگ آزادی سے چلتے رہنے کا امین مٹو نے خیال ظاہر کیا۔

امین مٹو نے قائدین کی تیاری اور نشاندہی پر خیال ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان سمیت جو بھی طبقہ ہے وہ روشن خیال ، ترقی پسند لیڈران کو آسانی کے ساتھ نہیں مانتا۔ جہاں تک کرناٹکا کا سوال ہے سابق وزیر بی اے محی الدین ایک لیڈر ہیں، ان کی تہنیت اگر 20سال پہلے کی جاتی تو معنی خیز ہوتی ۔ سماجی سطح پر قائدین کی تلاش اور ان کی پروان کاکام ہونا ضروری ہونے کی بات کہی۔

مسلمان بادشاہوں اور راجاؤں نے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کرنے کی بات کہی جاتی ہے ۔ مسلمانوں 700سالوں تک اس ملک کے بے تاج بادشاہ تھے ان کی حکمرانی تھی ، اگر واقعی میں تبدیلی مذہب ہوئی ہوتی توآج ملک کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب صرف 14فی صد ہونا ممکن تھا غور کرنے والی بات ہے۔ جہاں ہم فرقہ پرستی کی مخالفت کرتے ہیں وہیں اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے متعلق بھی غورکرناہے۔ ہم ہی اعلیٰ ہیں اور سب کچھ اپنی پکڑ میں رکھنے کی دھن میں اکثریتی فرقہ پرستی جنم لیتی ہے تو اقلیت میں عدم تحفظ کا خیال بھی فرقہ پرستی کو جنم دینے کی وجہ بن سکنے کا خیال ظاہر کیا۔


Share: